بنگلورو،2؍جنوری(ایس او نیوز) رواں تعلیمی سال کی شروعات کے آٹھ ماہ بعد ریاست میں دسویں اور بارہویں جماعت کیلئے یکم جنوری سے جوش و خروش اور خوف کے درمیان باقاعدہ کلاسوں کا شروعات ہوئی- پہلے دن ریاست بھر کے16850ہائی اسکولوں اور پی یو کالجوں میں ان دو کلاسوں میں زیر تعلیم 9,27,472طلباء میں سے 3,80,264طلباء اسکول میں حاضر ہوئے اور حاضری کا32.56فیصد کے آس پاس رہا-
ریاستی وزیر برائے بنیادی وثانوی تعلیم سریش کمار نے بتایا کہ کورونا وائرس کے خوف کے سبب ترک ہوچکی تعلیمی سرگرمی کو اب حکومت نے کافی کوششوں کے بعد 10اور 12ویں جماعت کیلئے بحال کیا ہے آنے والے دنوں میں دیگر جماعتوں کیلئے ان سرگرمیوں کو بحال کرنے کے بارے میں مرحلہ وار حالات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا-
انہوں نے کہا کہ انتہائی محفوظ ماحول میں اسکولوں کی شروعات کی گئی ہے - سال نو کی خوشیوں کے ساتھ والدین کو اپنے بچوں کی اسکول واپسی کی خوشی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ان بچوں کی حفاظت اور ان کی صحت کو لے کر ایک خوف بھی ہے اس لئے حکومت کی طرف سے ان بچوں کی حفاظت اور کورو نا وائرس سے بچنے کیلئے ہر ممکن احتیاط برتی جارہی ہے - انہوں نے بتایا کہ ریاست بھر میں ہائی اسکولوں اور پی یو کالجوں میں حاضر ہونے والے بچوں کیلئے سخت رہنما خطو ط وضع کئے گئے ہیں اورکہا گیا ہے کہ بچوں کو اگر سردی، بخار یا کوئی اور پریشانی ہو تو اسکول نہ آئیں - وزیر موصوف نے کہا کہ اسکولوں کے کھل جانے کے بعد اب نئے نصاب کے مطابق تدریس ہوگی - جلد از جلد ان کو پورا کر کے امتحان کروانے کیلئے انتظامیہ سے کہہ دیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ ایس ایس ایل سی اورپی یو سی سال دوم کے سالانہ امتحان کیلئے ٹائم ٹیبل کا اعلان چہارشنبہ کے دن کردیا جائے گا-
انہوں نے کہا کہ امتحان کیلئے جتنا نصاب درکار ہے طلباء کو صرف اتنا ہی پڑھانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ان پر زیادہ بوجھ نہ رہے اور انہیں امتحان پاس کرنے کی زیادہ پریشانی نہ ہو- انہوں نے بتایا کہ اسکولوں کے کھل جانے کے بعد انہوں نے متعدد اسکولوں کا دورہ کیا اور وہاں طلباء کیلئے کئے گئے انتظامات کا معائنہ کیا- اسکولوں میں طلباء اور عملہ کی طبی جانچ کی جا رہی ہے اور سینی ٹائزر کا انتظام کیا گیا ہے-انہوں نے کہا کہ پہلے دن حاضری غالباً اس لئے کم رہی کیوں کہ نئے سال کے سبب والدین نے بچوں کو اسکول نہیں بھیجا امکان ہے کہ پیر سے اسکولوں میں حاضری بڑھے گی-اس کے علاوہ بہت سارے والدین اب بھی اپنے بچوں کو بھیجنے کے بارے میں خوفزدہ ہیں -جیسے جیسے طلباء کی حاضری اسکولوں میں بڑھے گی ویسے ویسے خوف بھی ختم ہو جائے گا-